صلۂ رحم

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - اہلِ خاندان اور رشتہ داروں سے نیکی اور احسان کا برتاؤ، خویش واقربا سے تعلق رکھنا، اعزہ کی خوشی اور غم میں ہر طرح شریک ہونا۔ "اسلام میں صلہ رحم کی بڑی تاکید ہے"      ( ١٩٨٥ء، حیاتِ جوہر، ٢٢٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے مرکب اضافی ہے۔ عربی زبان میں اسم 'صلہ' کے آخر پر 'ہ' ہونے کی وجہ سے 'ء' زائد بڑھایا گیا اور کسرہ اضافت لگا کر عربی ہی سے اسم مجرد 'رحم' ملنے سے مرکب بنا۔ مذکور ترکیب میں 'صلہ' مضاف اور 'رحم' مضاف الیہ ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٤٥ء کو "احوال الانبیا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اہلِ خاندان اور رشتہ داروں سے نیکی اور احسان کا برتاؤ، خویش واقربا سے تعلق رکھنا، اعزہ کی خوشی اور غم میں ہر طرح شریک ہونا۔ "اسلام میں صلہ رحم کی بڑی تاکید ہے"      ( ١٩٨٥ء، حیاتِ جوہر، ٢٢٤ )

جنس: مذکر